فوری طور پر ریگولیٹری اتھارٹی کا عملی آغاز کرکے رئیل اسٹیٹ بزنس کو بحال کیاجاسکتاہے۔
رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک 100سے زائد الائیڈانڈسٹریز کی وجہ سے یہ مدر آف انڈسٹریزکہلاتی ہے جس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے جس سے کروڑوں لوگوں کاکاروبار وابسطہ ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے سے معیشت کی بحالی ممکن ہے۔
ملک میں اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے حامل کروڑوں افراد کے پیشہ وارانہ خدمات سے وابستہ رئیل اسٹیٹ بزنس کو وطن عزیز کی معاشی ترقی اور سماجی خوشحالی اہم مقام حاصل ہے حکومت رئیل اسٹیٹ بزنس میں مراعات، ترغیبات، سہولیات اور آسانیاں فراہم کرے اور ٹیکسوںمیںکمی کرے تو اس شعبے کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔
٭…. وطن عزیز میں 2013ءرئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کی بنیاد رکھی گئی اور قانون سازی شروع ہوئی،2015میں اس میں ترامیم کی گئیں، پھر 2017-18ءمیں رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک افراد اور سٹیک ہولڈرز سے تجاویز وآراءلے کر مشاورت کے بعد مزیدنظرثانی کی گئی۔حال ہی میں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے ایکٹ (ریگولیشن اینڈ ڈویلپمنٹ) ترامیم کے ساتھ جاری کیاگیا ۔لیکن ابھی تک عملی طور پر رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا آغاز نہیں ہوسکا۔
فوری طور پر ریگولیٹری اتھارٹی کا عملی آغاز کرکے رئیل اسٹیٹ بزنس کو بحال کیاجاسکتاہے۔
٭…. دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک جہاں رئیل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قوانین رائج ہیں ان میں پالیسی میکنگ کرتے ہوئے اس بات کا خیال رکھاجاتاہے کہ ٹیکس میں ردوبدل کرتے ہوئے تین سال کے عرصے کی پالیسی میکنگ کی جاتی ہے ہمارے یہاںہر بجٹ میں بجٹ سے تین ماہ پہلے اور بجٹ کے تین ماہ بعد اور پھر اگلے بجٹ سے تین ماہ پہلے تقریباً 9-10مہینے بجٹ کی تجاویز دیتے اور ٹیکس میں ردوبدل کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں کاروباری حضرات یا سٹیک ہولڈرز کاروبار کب کرینگے۔ حکومت بدلی تو پالیسی بدلی ، نت نئے ٹیکسوں سے خریدار کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔
٭….امسال رئیل اسٹیٹ بزنس کا مکمل رخ چینج کرنے کی کوشش کی گئی ہے 70سال سے رائج نظام کا رخ چینج کرنے کی وجہ سے کاروباری سرگرمیان منجمد ہوگئی ہیں، حکومت کے ان اقدامات کا مقصد اضافی ٹیکس ریونیو کا حصول تھا، مگر حقائق اس کے یکسر متضاد ہیں اور وفاقی اور صوبائی خزانے کو نقصان کا سامنا ہے۔
ملکی معیشت لوکل انڈسٹری اور ایکسپورٹ انڈسٹری پر بیس کرتی ہے لوکل انڈسٹریز میں رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک تمام انڈسٹریز سرفہرست ہیں جن میں ڈویلپرز، رئیل اسٹیٹ بروکر،بلڈرز، میٹریل اور ڈویلپمنٹ انڈسٹریز شامل ہیں۔رئیل اسٹیٹ بزنس لوکل انڈسٹری کے ساتھ منسلک ہے اور جیسا کہ لوکل انڈسٹری اس وقت ڈسٹرب ہے جس کی وجہ سے ملکی اکانومی پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں لہٰذا بہت ضروری ہے کہ رئیل اسٹیٹ بزنس کو بحال کیاجائے جس سے پاکستانی اکانومی بحال ہوسکتی ہے۔
٭….تمام صوبوںمیں یکساں بائی لاز ، رولز اینڈریگولیشن کو لاگو کیاجائے ، امسال صوبوں کے بجٹ میں پنجاب کے علاوہ CVTاور Stamp Dutyکی ریشو میں کمی کرکے 2%سے 2.5%کردی گئی ہے مثال کے طور پر سندھ میں CVTاور Stamp Dutyکی ریشو 4.5%سے کم کرکے 2.5%کردی گئی ہے لیکن پنجاب میں کوئی کمی نہیں کی گئی اور5% CVTاور Stamp Duty کی ریشو رائج ہے، رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی اور ریونیو کے حصول کےلئے یہ ضروری ہے کہ یہ ریشو 2%مقرر کی جائے۔
٭….حکومت وقت کی طرف سے رئیل اسٹیٹ بزنس کو نظرانداز کرنے ، ٹیکسوں کی بھرمار اور پراپرٹی کی ٹرانسفر پر بھاری اخراجات ہونے کی وجہ سے گھر بنانا، پراپرٹی خریدنا مشکل ترین ہوگیاہے، حکومت وقت اگر ٹیکسوں میں کمی کرے، اس میں آسانیاں اور سہولیات فراہم کرے تو یقیناً حکومت کے ریونیو میں اضافہ کیاجاسکتاہے اور تباہ حال بزنس کو خوشگوار کاروباری سرگرمیوں میں تبدیل کیاجاسکتاہے۔
٭…. ایک محتاط اندازے کے مطابق حکومت کے حالیہ ٹیکسوں کے نفاذ اور بزنس کے بحران سے قبل اوورسیز پاکستانی 7بلین ڈالر سے زیادہ رئیل اسٹیٹ بزنس میں سرمایہ کاری کرتے تھے، اوورسیز پاکستانی جو رئیل اسٹیٹ بزنس اور اس سے منسلک انڈسٹری میں سرمایہ کاری کرتے ہیں جس سے فارن ایکسچینج حاصل ہوتاہے ، ملکی معیشت کی ترقی کےلئے فارن ایکسچینج کی اشد ضرورت ہے لہٰذا اوورسیز پاکستانیوں کےلئے مراعات،آسانیاں،سہولیات، ٹیکسوں میں خصوصی کمی کرکے راغب کیاجاسکتاہے اور اربوں روپے کا ریونیو حاصل کیاجاسکتاہے۔
٭…. جیسا کہ دنیابھر کے ترقی یافتہ ممالک میںفری ہولڈ پراپرٹی کا سسٹم رائج ہے جس میں مختلف ممالک میں کسی بھی جگہ اور بلڈنگز میں کچھ فیصد فری ہولڈ پراپرٹیز مختص کی جاتی ہیں جس سے ان کی ان کی اکانومی گرو کرتی ہے اس سسٹم کے تحت دوست ممالک کے انویسٹرز، سرمایہ کار، ملٹی نیشنل ڈویلپرز کو مدعو کیاجاسکتاہے مثال کے طور پر ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ، کینیڈا، انگلینڈ، ملائیشیا، ترکی ،دبئی وغیرہ شامل ہیں۔تمام اسلامی ممالک کو صرف فری ہولڈپراپرٹی سسٹم میں شامل کرکے اکانومی کو مضبوط کیاجاسکتاہے۔پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور اس کے علاوہ گوادر، کلرکہار،مارگلہ ہل، کاغان،ناران، کالام وغیرہ انتہائی پرکشش مقامات ہیں۔
٭….رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک 100سے زائد الائیڈانڈسٹریز کی وجہ سے یہ مدر آف انڈسٹریزکہلاتی ہے جس کی وجہ سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے جس سے کروڑوں لوگوں کاکاروبار وابسطہ ہے۔ کاروباری سرگرمیوں کو بحال کرنے سے معیشت کی بحالی ممکن ہے۔

رئیل اسٹیٹ ایجنٹس
٭…. رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کئی دہائیوںسے اس بزنس سے منسلک ہیں اور بزنس کے نشیب وفراز سے بخوبی آگاہ ہیں،رئیل اسٹیٹ ایجنٹس حکومت کے ساتھ مل کر رئیل اسٹیٹ بزنس کے امیج کوBuildکرنے،ریونیوکے حصول اورعوامی سطح پر آگاہی کےلئے ورکشاپس ،سیمینارز،ایگزیبیشنز کا اہتمام کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں اورگورنمنٹ کو کوئی بھی پالیسی اناﺅنس کرنے سے پہلے چاہیے کہ وہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس کو On Boardلیں اور ان کے تجربے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پالیسیاں مرتب کرے۔
٭….حکومت رئیل اسٹیٹ بزنس سے منسلک افراد ،اداروں کو رجسٹرڈکرے اور،منظم اور مربوط چیک اینڈبیلنس کا نظام بنایاجائے اور خریدوفروخت میں ہونے والی بے ضابطگیوں پر قابوپایاجاسکتاہے،تاکہ اس پلیٹ فارم سے اندرون وبیرون ملک پاکستانیوں، نیشنل اور ملٹی نیشنل اداروں کو رئیل اسٹیٹ بزنس اور ڈویلپمنٹ سیکٹر اور اس سے منسلک انڈسٹریز میں انویسٹمنٹ کرنے کی طرف راغب کیاجاسکتاہے،جس سے پیشہ وارانہ سرگرمیوں کو بڑھایاجاسکتاہے۔مثال کے طور پرسٹاک ایکسچینج اوربینکنگ سیکٹر میں معمولات کو منظم رکھنے کےلئے نہایت مربوط چیک اینڈبیلنس کانظام موجود ہے اسی قسم کا کوئی طریقہ کار واضح کیاجاسکتاہے۔
٭…. کسی بھی پراپرٹی کی ٹرانزیکشن میں جو رئیل اسٹیٹ ایجنٹس منسلک ہو اس کا کمیشن کم ازکم3%مقرر کیاجائے اور ملک بھر میں ایک ہی ریشو رائج کی جائے۔
قومی سطح پرموجودہ معاشی حالات اور کاروباری صورت حال کے تناظر میں مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں تجربہ کار پالیسی میکرز کے ذریعے تاریخی اور مثبت اقدامات اٹھائے جائیں، تاکہ ملک میں رئیل اسٹیٹ بزنس ترقی، استحکام اور بہتری کا باعث بن سکیں۔

زاہدبن صادق
0300-8402220