ایسڈڈیکلئیرر یشن آرڈنینس(ASSETS DECLARATION ORDINANCE, 2019)کی نمائیاں خصوصیات(Salient Features)اور رئیل اسٹیٹ بزنس پروموشن
وطن عزیز میں ٹیکس فائیلر کی تعداد بہت کم ہے جس کی وجہ سے فروخت ،آمدنی اور اثاثے (ASSETS)مبینہ طور پر Non Declaredہیںیہی وجہ ہے ۔کہ بزنس کے استحکام اور معیشت کی حوصلہ افزائی اور اقتصادی بحالی اور رئیل اسٹیٹ بزنس کو چلانے کے لئے ایک آرڈیننس پاس کیا گیا ہے۔ حکومت وقت اور خصوصََاصدرِپاکستان کی طرف سے یہ مثبت اقدام اٹھایاگیا ہے۔
(1)اس سکیم کے تحت لوکل پراپرٹی (رئیل اسٹیٹ)کو ڈیکلئیر کرنے کی صورت میں 30جون2019تک ایک فیصد اُس کے بعد ستمبر 2019تک 2فیصد اور 31دسمبر2019تک پراپرٹی ظاہر کرنے کی صورت میں 4فیصد ادا کرنا پڑے گااِس کے لیئے مارکیٹ پرائس یالاگت دونوںمیںسے جو زیادہ ہو وہ ریٹ ظاہر کرنا پڑے گا۔لیکن انکم ٹیکس آرڈنینس 68کے سیکشن کے تحتFBRکی طرف سے مقرر کردہ قیمت /ریٹ سے کم نہ ہو۔
(2)بیرون ملک جائیداد ،نقدی (رقوم)اور سونا وغیرہ ظاہر کرنے کی صورت میں30جون2019تک5فیصد اُس کے بعد 30ستمبر 2019تک 10فیصد اور 31دسمبر 2019تک 20فیصدادا کرکے اثاثے (ASSETS)کو ڈیکلئیر (DECLARE)کیا جا سکتا ہے اِس کے لیئے مارکیٹ پرائس یا لاگت اِن میں سے جو زیادہ ہو گا پیمانہ مقرر کیا گیا ہے ۔
(3)نقد رقوم کو ڈیکلئیر(DECLARE) کرنے سے پہلے بنک میں جمع کروانا ضروری ہے انعامی بونڈز کواس میں ظاہر نہیںکیا جا سکتا۔
(4)صارف کے تمام ڈیکلیئر(DECLARE) کردہ اثاثے (ASSETS)اور رقوم کی تفصیلات کو خفیہ رکھا جائے گا۔
(5)اورسیز پاکستانی قانون کے مطابق اور اسٹیٹ بنک کے قوانین کے مطابق رقوم پاکستان منتقل کرتے ہیںتووہ حضرات اِس سکیم کے دائرہ اختیارمیںنہیں آتے کیونکہ وہ رقوم منتقل کرتے وقت قانو ن کے مطابق چارجز/ٹیکس ادا کر دیتے ہیں
(6)ایسے حضرات جن کی وراثتی جائیداد یا پہلے سے خرید کردہ جائیداد جِس کی خریدوفروخت کے لیئے جائز زرائع یاثبوت موجود ہیں وہ حضرات اگر فائلر(FILER) بنتے ہیں تواُن کو صرف جائز ثبوت دینے کی صورت میں اُن پر کوئی اضا فی ٹیکس نہیں لگے گا ۔
(7)سابقہ5سال کے دوران جو سیلزیا رقوم ظاہر نہیںجا سکیںاُن رجسٹرڈ افراد، سیلز ایکٹ،فیڈرل ایکسائز ایکٹ کے تحت سیلز/اثاثے کو ڈیکلئیر(DECLARE) کرنے کی صورت میں(department) کی طرف سے اضافی جرمانے وصول نہیں جائیں گے۔
حکومت وقت کی طرف سے رئیل اسٹیٹ بزنس میں خریدو فروخت کرنے کی صورت میں ٹرانسفر اخراجات بہت زیادہ ہیںاگر اُن میں نمایاں کمی کر دی جائے تو رئیل اسٹیٹ بزنس بحال ہو سکتا ہے رئیل اسٹیٹ بزنس کی بحالی سے حکو مت کے (REVENUE)میں اضافہ کیا جا سکتا ہے